• Taimur Chambers Plot # 10-D (WEST), Fazal-ul-Haq Rd, Islamabad
  • (+92) 51-2278134, (+92) 51-2278135
  • Taimur Chambers Plot # 10-D (WEST), Fazal-ul-Haq Rd, Islamabad
  • (+92) 51-2278134, (+92) 51-2278135

معاشرے میں عورتوں کے بہتر مقام کے لیے فرسودہ ذہنیت کا خاتمہ ضروری ہے، سینیٹر محسن لغاری

  • Friday, 3rd Mar 2017
  • Islamabad
1

عورتوں کی سرکردگی میں سوشل انٹرپرائزز کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کروں گا،

 ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام مشاورتی اجلاس سے اظہار خیال

 
اسلام آباد ( ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و اقتصادی امورکے رکن سینیٹر محسن خان لغاری نے کہا ہے کہ عورتوں کی معاشی با اختیاری معاشرے میں ان کے بہتر مقام کے لیے کلیدی کردار کی حامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کی حقیقی سیاسی، معاشرتی اور معاشی آزادی کے لیے فرسودہ ذہنیت میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’عورتوں کی با اختیاری میں سوشل انٹرپرائزز کا کردار‘ کے زیر عنوان پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) کے زیر اہتما م منعقدہ قبل از بجٹ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مشاوری اجلاس میں مختلف نجی و سرکاری محکموں کے متعلقہ افسران، سول سوسائٹی اداروں اور کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ سینیٹر محسن لغاری نے اس موقع پر شرکاء کو یقین دلایا کہ وہ ملک میں عورتوں کی زیر سرکردگی سوشل انٹرپرائز کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سوشل انٹرپرائزز کو قانونی تشریح مہیا کرتے ہوئے ان کی معاونت کا آغاز کر سکتی ہے۔ انہوں نے کاہ کہ اس ضمن میں منصوبہ بندی کمیشن میں کام کرنے والے سینٹر برائے سماجی انٹرپینیورشپ، صوبائی شعبہ ہائے منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر سوشل انٹرپرائزز کی ترقی کی راہ نکلا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آمدہ بجٹ برائے سال 2017-18میں عورتوں کو سوشل انٹر پرائزز قائم کرنے میں معاونت دینے کے لیے رقم رکھی جانے چاہئے تاکہ اس ضمن میں عورتوں کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔اسی طرغ فیڈرل بورڈ آف ریوینیوشعبے کی ترقی کے لیے ٹیکسوں کے متوازن نظام پر عورتوں کی سرکردگی میں سوشل انٹرپرائزز کے ساتھ مشاورت کر سکتا ہے۔

برٹش کونسل پاکستان کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سعدیہ رحمان نے کہا کہ ملک میں بے روزگار کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضرورری ہے کہ نوجوانوں خصوصاً عورتوں اور لڑکیوں کو سوشل انٹرپرائزز قائم کرنے کی تربیت دی جائے۔ آکسفیم پاکستان کی نمائندہ سحر افشین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سوشل انٹرپرائزز کے لئے دیہی آبادی کی خواتین پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات کرتے وقت دیہی آبادیوں کی عورتوں کے دیگر مسائل کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ 

مشاورتی اجلاس کے دوران کامیاب پاکستان کے منصور ملک اور کار انداز کی ثمر حسن نے بھی اظہارخیال کیا اور شوشل انٹرپرائز اور عورتوں کی اس ضمن میں حوصلہ افزائی کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے زور دیا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ عورتوں کی سرکردگی میں سوشل انٹرپرائزز سرمائے کی سہولت سے کیوں محروم ہیں اور اس ضمن میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں جن کا دور کیا جانا ضرورری ہے۔